عِلم کا حاصل کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت) پر فرض ہے۔

عِلم کا حاصل کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت) پر فرض ہے۔

0
1142

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ

طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ

عِلم کا حاصل کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت)پرفرض ہے۔

(سنن ابن ماجہ)

علماء کے نزدیک اِس حدیثِ پاک کے مطابق جو علم سیکھنا  فرض ہیں وہ اِس طرح ہیں۔      

  • سب سے پہلے اور ضروری فرض یہ ہے کہ بُنیادی عقائد کا علم حاصِل کرے ۔ جس سے آدمی صحیح العقیدہ مسلمان بنتا ہے اور جن کے انکار و مخالَفَت سے کافِر یا گُمراہ ہو جاتا ہے۔
  • اِس کے بعد طہارت یعنی پاکی اور صفائی کا علم حاصل کرے اور ساتھ ہی ناپاک چیزوں کے بارے میں اور اُن سے پاکی حاصل کرنے کے بارے میں جانکاری حاصل کرے ۔
  • نَماز کے مسائل یعنی اِس کے فرائض و شرائط و مُفسِدات ( یعنی نماز توڑنے والی چیزیں)سیکھے تاکہ نَماز صحیح طور پر ادا کر سکے۔
  • رَمَضانُ الْمبارَک  کے روزوں کے مسائل ۔
  • زکوٰۃ کے مسائل سیکھنا تاکہ مالِکِ نصابِ  ہونے پر زکوٰۃ سہی طرح ادا کر سکے۔
  • صاحِبِ اِستِطاعت ہو تو حج کے مسائل۔
  • نِکاح کرنا چاہے تو اِس کے ضَروری مسائل۔
  • تاجِر (Businessman) ہو تو خرید و فروخت کے مسائل،
  • کاشتکار (وزمیندار)کھیتی باڑی کے مسائل۔
  • ملازِم بننے اور ملازِم رکھنے والے پر ملازمت سے متعلق مسائل۔
  • ہرمسلمان عاقِل و بالِغ مردوعورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے۔
  • ہر ایک کیلئے حلال و حرام مسائل بھی سیکھنا فرض ہے۔
  • دل میں رہنے والے پوشیدہ فرائض کا  عِلم مثلا ً عاجِزی ،   اِخلاص اور توکُّل وغیرہ اور ان کو حاصِل کرنے کا طریقہ ۔اور پوشیدہ گناہ مثلا ً  تکبُّر ،  رِیاکاری،  حَسَد وغیرہ اور ان کا عِلاج سیکھنا ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔

NO COMMENTS