وُضو کب ۔ کب کرنا چاہئے

وُضو کب ۔ کب کرنا چاہئے

0
320

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ

کچھ کاموں کے لئے وضو کرنا  فرض ہے یعنی اسکو چھوڑنا  گنا ہِ کبیرہ ہے  اور اسکا  انکار کفر ہے۔ کچھ کاموں کے لئے سنت ہے اور کچھ کے لئے مستحب۔

وضو کرنا ان کاموں کے لئے فرض ہے۔

  • نماز
  • سجدہ تلاوت
  • نمازِ جنازہ
  • قرآن شریف چھونا
  • طواف کے لئے وضو واجب ہے۔

ان کاموں کے لئے وضو کرنا سنت ہے۔

  • غسلِ جنابت یعنی صحبت کے بعد پاکی کے لئے نہانے سے پہلے۔
  • جُنُب یعنی جو صحبت کے بعد پاک نہیں ہوا اسکو کھانے،  پینے اور سونے کے لئے۔
  • اذان اور اقامت کے لئے۔
  • جمعہ اور عید کے خطبے کے لئے۔
  • روضئہ مبارک حضور گ کی  زیارت  کے لئے۔
  • عرفہ میں ٹھہرنے اور صفا اور مروا کے درمیان سعی کے لئے۔

ان  کاموں کے لئے وضو کرنا مستحب ہے۔

  • سونے کے لئے اور سونے سے اٹھنے کے بعد۔
  • میّت کے نہلانے یا اٹھانے  کے بعد۔
  • صحبت سے پہلے۔
  • جب غصہ آ جائے اس وقت۔
  • زبانی قرآن شریف پڑھنے پڑھانے کے لئے۔
  • جمعہ، عید، بقرعید  کے علاوہ باقی ختبوں کے لئے۔
  • دینی کتابوں کو چھونے کے لئے۔
  • سترِ غلیظ یعنی پیشاب پاخانے کی جگہ کو چھونے کے بعد۔
  • جھوٹ بولنے، گالی دینے،  بری بات کہنے اور غیبت کرنے پر۔
  • کافر سے بدن چھو جانے، صلیب یا بت چھونے، کوڑھی یا سفید داغ والے سے چھو جانے پر۔
  • بغل کھجانے سے جبکہ اس میں بدبو ہو۔
  • قہقہہ لگانے یعنی زور سے ہنسنے کے بعد۔
  • بیہودہ شیر پڑھنے کے بعد۔
  • اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد۔
  • کسی عورت کے بدن سے اپنا بدن کے چھو جانے سے جبکہ بیچ کوئی چیز حائل نہ ہو۔
  • وضو ہونے کے باوجود نماز پڑھنے کے لئے۔

NO COMMENTS