استنجے اور بیت الخلا کے متعلق مسائل

استنجے اور بیت الخلا کے متعلق مسائل

0
959

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ

  • جب پاخانہ پیشاب کو جائے تو مستحب ہے کہ پاخانہ سے باہَر پہلے یہ پڑھ لیں۔

بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ

    پھر بایاں قدم پہلے داخل کریں ۔

  • نکلتے وقت پہلے داہنا پاؤں باہر نکالے اور نکل کر یہ دعا پڑھیں۔

غُفْرَانَکَ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذٰی وَعَا فَانِیْ

  • پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت یا طہارت کرنے میں نہ قِبلہ کی طرف مونھ ہو نہ  پیٹھ اور یہ حکم عام ہے چاہے مکان کے اندر ہو،  یا میدان میں اور اگر بھول کر قِبلہ کی طرف مونھ یا  پیٹھ کر کے بیٹھ گیا ، تو یاد آتے ہی فوراً  رُخ  بدل  دے اس میں امید ہے کہ فوراً  اس کے لیے مغفرت فرمادی جائے۔
  • بچّے کو پاخانہ پیشاب کرانے  والے کو مکروہ ہے کہ اس بچّے کا مونھ قِبلہ کو ہو  ورنہ یہ کرانے والا گنہگار ہوگا۔
  • پاخانہ، پیشاب کرتے وقت سورج اور چاند کی طرف نہ مونھ ہو، نہ  پیٹھ۔ یوہیں ہَوا کے رُخ پیشاب کرنا  بھی منا ہے۔
  • ان سب جگہوں میں پیشاب، پاخانہ مکروہ ہے۔
  1. کوئیں ، حوض،  چشمہ کے کنارے ،  پانی میں اگرچہ بہتا ہوا  ہو، گھاٹ پر۔
  2. پھلدار درخت کے نیچے، اس کھیت میں جس میں فصل موجود ہو۔
  3. سایہ میں جہاں لوگ اٹھتے بیٹھتے ہوں،  مسجد اور عید گاہ  کے آس۔ پاس، قبرستان یا راستہ میں۔
  4. یا جس جگہ مویشی (یعنی پالتو جانور جیسے گائے، بھینس وغیرہ) بندھے ہوں۔
  5. جس جگہ وُضو یا غُسل کیا جاتا  ہو وہاں  پیشاب کرنا ۔
  • خود نیچی جگہ بیٹھنا اور پیشاب کی دھار اونچی جگہ گرے یہ ممنوع ہے۔
  • ایسی سَخْت زمین پر جس سے پیشاب کی چھینٹیں اُڑ کر آئیں پیشاب کرنا ممنوع ہے، ایسی جگہ کو کرید کر نَرْم کر لیں یا گڑھا کھود کر پیشاب کریں ۔
  • کھڑے ہو کر یا لیٹ کر یا بلکل ننگے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے۔
  • ننگے سر پاخانہ ، پیشاب کو جانا مکروہ ہے۔
  • اپنے ساتھ ایسی چیز لے جانا جس پر کوئی دُعا یا ﷲ و رسول یا کسی بزرگ کا نام لکھا ہو منا ہے۔
  • بیت الخلا میں بات کرنا مکروہ ہے۔
  • جب تک بیٹھنے کے قریب نہ ہو کپڑا بدن سے نہ ہٹائے اور نہ ضرورت سے زِیادہ بدن کھولیں۔
  • دونوں پاؤں کشادہ کرکے بائیں پاؤں پر زور دے کر بیٹھیں۔
  • کسی دینی مسئلہ میں غور نہ کریں،  یہ باعثِ محرومی ہے۔
  • چھینک ،  سلام یا  اذان کا جواب زبان سے نہ دیں اور اگر چھینکے تو زبان سے  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہیں۔
  • بغیر ضرورت اپنی شَرْمْگاہ کی طرف نظر نہ کریں اور نہ اس نَجاست کو دیکھے جو اس کے بدن سے نکلی ہے۔
  • دیر تک نہ بیٹھیں کہ اس سے بواسیر کا اندیشہ ہے ۔
  • پیشاب میں نہ تھوکیں ،  نہ ناک صاف کریں ،  نہ بلا ضرورت کھنکاریں ، نہ بار بار اِدھر اُدھر دیکھیں
  • نہ بیکار بدن چھوئے، نہ آسمان کی طرف نگاہ کریں  بلکہ شرم کے ساتھ سر جھکائے رہیں۔
  • جب فارغ ہو جائے تو  پہلے تین تین بار دونوں ہاتھ دھولے    پھر داہنے ہاتھ سے پانی بہائے اور بائیں ہاتھ سے دھوئے اور پانی کا لوٹا اونچا رکھے کہ چھینٹیں نہ پڑیں۔
  • پہلے پیشاب کا مقام دھوئے پھر پاخانہ کا مقام اور خوب اچھی طرح دھوئیں کہ دھونے کے بعد ہاتھ میں بُو باقی نہ رہ جائے ،پھر کسی پاک کپڑے سے پونچھ ڈالیں اور اگر کپڑا پاس نہ ہو تو بار بار ہاتھ سے پونچھیں 
  • ڈھیلوں سے استنجا کرنا سنّت ہے اور اگر صرف پانی ہی سے طہارت کرلی تو بھی جائز ہے مگر مستحب یہ ہے کہ ڈھیلے لینے کے بعد پانی سے طہارت کر ے۔
  • ڈھیلوں کی کوئی تعداد مُعیّن سنّت نہیں بلکہ جتنے سے صفائی ہو جائے، تو اگر ایک سے صفائی ہو گئی سنّت ادا ہوگئی اور اگر تین ڈھیلے لیے اور صفائی نہ ہوئی سنّت ادا نہ ہوئی، البتہ مستحب یہ ہے کہ طاق ہوں اور کم سے کم تین ہوں تو اگر ایک یا دو سے صفائی ہو گئی تو تین کی گنتی پوری کرے اور اگر چار سے صفائی ہو توایک اور لے کہ طاق ہو جائیں۔
  • کنکر، پتھر، پھٹا ہوا کپڑا یہ سب ڈھیلے کے حکم میں ہیں ،ان سے بھی صاف کر لینا بلا کراہت جائز ہے۔
  • دیوار سے بھی استنجا سکھا سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ دوسرے کی دیوار نہ ہو،اگر دوسرے کی ملک ہو یا وقف ہو تو اس سے استنجا کرنا مکروہ ہے۔
  • پرائی دیوار سے استنجے کے ڈھیلے لینا جائز نہیں اگرچہ وہ مکان اس کے کرایہ میں ہو۔
  • ہڈّی، گوبر ،  پکی اینٹ،  ٹھیکری ،  شیشہ،  کوئلہ  اور ایسی چیز سے جس کی کچھ قیمت ہو، اگرچہ ایک آدھ پیسہ سہی ان چیزوں سے استنجا کرنا مکروہ ہے۔
  • کاغذ سے استنجا منع ہے، اگرچہ اس پر کچھ لکھا نہ ہو ۔
  • داہنے ہاتھ سے استنجا کرنا مکروہ ہے، اگر کسی کا بایاں ہاتھ بیکار ہو گیا تو اسے دہنے ہاتھ سے جائز ہے۔
  • شرم گاہ کو داہنے ہاتھ سے چھونا ،یا داہنے ہاتھ میں ڈھیلا لے کر اس پر گزارنا مکروہ ہے۔
  • جس ڈھیلے سے ایک بار استنجا کر لیا اسے دوبارہ کام میں لانا مکروہ ہے مگر دوسری کروٹ اس کی صاف ہو تو اس سے کر سکتے ہیں۔  
  • پاخانہ کے بعد پانی سے استنجے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ کشادہ ہو کر بیٹھے اور آہستہ آہستہ پانی ڈالے اور انگلیوں کے پیٹ سے دھوئے انگلیوں کاسِرا نہ لگے ۔
  • خوب مبالغہ (یعنی اچھی طرح ) سےدھویں ،  تین انگلیوں سے زِیادہ سے طہارت نہ کرے اور آہستہ آہستہ ملے یہاں تک کہ چکنائی جاتی رہے۔
  • ہتھیلی سے دھونے سے بھی طہارت ہو جائے گی۔
  • عورت ہتھیلی سے دھوئے اور بہ نسبت مرد کے زیادہ پھیل کر بیٹھے۔
  • طہارت کے بعد ہاتھ پاک ہوگئے مگر پھر دھولینا بلکہ مٹی لگا کر دھونا مستحب ہے۔
  • روزے کے دنوں میں نہ زِیادہ پھیل کر بیٹھے نہ مبالغہ کرے۔
  • مرد لُنجھا ہو تو اس کی بی بی استنجا کرادے اور عورت ایسی ہو تو اس کا شوہر اور بی بی نہ ہو یا عورت کا شوہر نہ ہو تو کسی اور رشتہ دار بیٹا، بیٹی، بھائی، بہن سے استنجا نہیں کراسکتے بلکہ معاف ہے۔
  • زمزم شریف سے استنجا پاک کرنا مکروہ ہے  اور ڈھیلا نہ لیا ہو تو ناجائز۔
  • وُضو کے بقیہ پانی سے طہارت کرنا خلافِ اَولیٰ ہے۔
  • طہارت کے بچے ہوئے پانی سے وُضو کر سکتے ہیں، بعض لوگ جو اس کو پھینک دیتے ہیں یہ نہ چاہیے اسراف میں داخل ہے۔

NO COMMENTS