جسم کی فالتو چیزوں سے پاکی

جسم کی فالتو چیزوں سے پاکی

0
674

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ

جسم کی فالتو چیزوں سے پاکی

اس میں ہم ان چیزوں کا ذکر کرینگے جو ناپاک تو نہیں ہوتی مگر صحیح طرح سے پاکی حاصل کرنے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔ کبھی کبھی تو ان چیزوں کی وجہ سے وضو  اور غسل بھی صحیح نہیں ہو پاتا جس سے عبادتیں برباد ہو سکتی  ہیں۔  لہذا  اس  پر  دھیان دینا ضروری ہے۔ یہ تین (3) طرح کی ہوتی ہیں۔

میل:- 

سر اور داڑھی کے بالوں میں جمع ہونے والے میل اور جؤں کا صاف کرنا مستحب ہے۔ انکی صفائی کے لئے بالوں کو دھونے،  تیل لگانے اور کنگھا کرنے کا حکم ہے۔ حضرت محمد گ اپنے بالوں میں کبھی کبھی تیل ڈالتے اور کنگھا کرتے۔

آپ گ کا  فرمان ہے که۔

جسکے بال ہوں اسے چاہئیے که انکا اکرام کرے (یعنی دیکھ بھال کرے )         

(ابو داؤد)

اسی طرح  کانوں،  دانتوں اور ناخونوں وغیرہ میں جو میل جم جاتا ہے اسے صاف کرنا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ جمے ہوئے میل سے صرف صحیح طرح سے پاکی حاصل کرنے میں ہی رکاوٹ نہیں آتی بلکہ طرح طرح کی بیماریاں ہونے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔

رطوبتیں

ہماری ناک اور آنکھوں سے ایسی رطوبتیں نکلتی ہیں جو سوکھ کر نتھنوں میں یا آنکھوں کے کوئے میں جم جاتی ہیں جس کی وجہ سے وضو اور غسل صحیح نہیں ہوتے۔

فالتو چیزیں جیسے بڑھے ہوئے ناخون اور بال وغیرہ

بدن میں بڑھی ہوئی فالتو چیزیں جن کی وجہ سے ناپاکی یا جنابت دور نہیں ہو پاتی ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے یہ کام ضروری ہیں۔

  • سر کے بال منڈوانا /کتروانا (یہ حکم عورتوں کے لئے نہیں ہے)۔
  • مونچھوں کے بال کتروانا۔
  • بغلوں کے بال صاف کرنا ۔
  • ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا۔
  • ناخون کاٹنا۔
  • ختنہ کرانا۔
  • داڑھی کے بال ایک مٹھی سے زیادہ کو کتروانا۔

سر کے بالوں کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے که بال رکھنا بھی جائز ہے اور منڈوانا بھی۔ لیکن بالوں کا کٹوانا یعنی منڈوانا افضل ہے اور اگر بال رکھے جائیں تو شریفوں والے۔ کوئی بھی مرد عورتوں کی طرح بال نہ رکھے اور ایسے ہی نہ کوئی عورت مردوں کی طرح بال کٹوایے۔

سر کے بال منڈوانے کی فضیلت

حضرت میر عبدالواحد بلگرامی ؒ اپنی مشہور کتاب ‘ سبع سنابل ’ میں بالوں کو منڈوانے (کٹوا کر صاف کرانے) کی فضیلت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں که۔

خلفائے راشدین اور دوسرے تمام صحابہ  سر منڈاتے رہے ہیں ایسے ہی تمام  آئمہ۔  لہذا  امام اعظم ابو حنیفہ ؒ،  امام شافئی ؒ،  امام مالکؒ   اور  امام  احمد بن حنبل ؒ اور تمام طبقات کے مشائخ  کے سر منڈے ہوئے تھے تو انکی سیرت کی پیروی کرنا  ہی بہتر اور اچھا  ہے۔ حدیث شریف میں ہے که سر منڈانے والے شخص کو موت کی کڑواہٹ،  قبر کا عذاب اور قیامت کا  ڈر نہیں ہوگا۔  ایسے شخص کو انبیاءِ کرام ے کے ساتھ قبر سے اٹھایا جائیگا  اور  رسولوں کے پاس جگہ دی جائیگی اور اسکے سر سے جتنے بال جدا ہو نگے تو ہر بال کے بدلے ایک فرشتہ  پیدا کیا جائیگا جو قیامت تک اس شخص کے لئے استغفار کرتا رہیگا۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے که نبی کریم گ نے فرمایا ۔

 الٰہی سر منڈانے والوں کو بخش دے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ بال کترنے والوں کو بھی،  پھر آپ گ  نے فرمایا الٰہی سر منڈانے والوں کی بخشش فرما،  صحابہ نے پھر عرض کیا یا  رسول اللّٰہ  بال کترنے والوں کو بھی، آپ گ نے پھر فرمایا  الٰہی سر منڈانے  والوں کی بخشش فرما،  پھر عرض کیا گیا یا رسول اللّٰہ  بال کترنے والوں کو بھی،  آپگ  نے فرمایا  اور بال کترنے والوں کی بھی (مغفرت فرما)۔

موئلف (Author) کے دل میں یہ سوال آتا ہے که وضو میں سر کا مسح فرض ہے حالانکہ بالوں میں مسح کرنے سے صحیح مسح ہو جاتا ہے لیکن مسح کی حقیقت نہیں پائی جاتی مگر سر منڈانے میں۔اسی لئے حضرت علی کرم اللّٰہ  وجہُ سے مروی ہے که آپ روزانہ سر منڈایا کرتے تھے۔

مونچھوں کے بال:

مونچھوں کے بالوں کے لئے حضرت محمدگ کا حکم ہے که مونچھے کترواؤ  اور داڈھیاں  بڑھاؤ  اور مونچھوں کو مونڈنے کا احادیث میں کوئی ذکر نہیں ملتا لیکن مونچھوں کو کتروانے میں زیادتی کرنی چاہئیے، مونچھوں کے کتروانے میں ہونٹوں کے اوپر کا حصہ لیا جاتا ہے اور مونچھوں کے دونوں طرف کے بال بڑھانے میں کوئی ہرج نہیں۔

بغلوں اور ناف کے نیچے کے بال

بغلوں اور ناف کے نیچے کے بال صاف کرنے کے لئے بہتر یہ ہے که ہر آٹھویں دن یعنی جمعہ کو جب غسل کریں تو ان بالوں کو بھی استرے (Razor) سے صاف کر لیں۔ عورتوں کے لئے بہتر ہے که کسی صابن یا کریم سے یہ بال صاف کریں۔ ان بالوں کو صاف کرنے کی مدت کسی بھی حال میں چالیس (40) دن یہ زیادہ نہیں ہونی چاہئیے۔

ناخون کاٹنا

ناخون کاٹنے کے لئے بھی یہی بہتر ہے که ہر آٹھویں دن دونوں ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے ناخون کاٹ لینے چاہئیں تاکہ اس میں میل یا کوئی ایسی چیز نہ پھنس جائے جو وضو یا غسل کرنے میں رکاوٹ بنے۔ میل اگر وضو/غسل کے لئے رکاوٹ نہ بھی ہو لیکن صحت کے لئے تو خطرناک ہوتا ہی ہے،  اسی وجہ سے آپ گ ناخون کاٹنے کی بہت تاکید فرماتے آپ گ کا فرمانِ عالیشان ہے۔

اے ابو ہریرہ اپنے ناخون تراشو،  کیونکہ بڑھے ہوئے ناخونوں پر شیطان بیٹھتا ہے

(جامع خطیب)

ناخون کاٹنے کو مسنون طریقہ:۔

ہاتھوں کے ناخون کاٹنے کے لئے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی (Index Finger) سے شروعات کرنی چاہئیے اور ترتیب سے چنگلی تک سب انگلیوں کے ناخون کاٹنے چاہئیے۔ پھر بائیں ہاتھ کی چنگلی سے شروع کرکے ترتیب وار انگوٹھے تک سب انگلیوں کے ناخون کاٹیں اور سب سے آخر میں داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخون کاٹنے چاہئیے۔

پیر کے ناخون کاٹنے کے لئے وہی ترتیب ہونی چاہئیے جو وضو میں انگلیوں کی گھائیاں دھونے میں رکھی جاتی ہے یعنی شروعات داہنے پیر کی چنگلی سے کریں اور انگوٹھے پر ختم کریں۔ بائیں پیر میں شروعات انگوٹھے سے کریں اور چنگلی پر ختم کریں۔

ختنہ

ختنہ سنت ہے اور اسلامی پہچان ہے اس سے مسلم و غیر مسلم میں فرق معلوم ہوتا ہے اسلئے اسے مسلمانی بھی کہتے ہیں۔ ختنہ کا مطلب یہ ہے که مرد کے اعلٰی تناسل  پر آگے کی طرف جو فالتو کھال ہوتی ہے اسے کاٹ دیا جاتا ہے۔ ہمارے حضرت مُحمّد گ ختنہ کیئے ہوئے  پیدا ہوئے۔ ختنہ بارہ سال کی عمر تک کرائی جا سکتی ہے۔ یہودی اپنے بچوں کی  پیدا ہونے کے ساتویں دن ختنہ کرا دیتے تھے لہذا انکی مخالفت کی وجہ سے تھوڑا  انتظار کرنا بہتر ہے که آگے کے دانت نکل آئیں۔ بعض علما ء نے  پیدائش کے ساتویں دن کرانا بھی جائز بتایا ہے۔ اگر بچہ ختنہ ہوئے  پیدا ہوا تو ختنہ کی ضرورت نہیں۔ کوئی بوڑھا آدمی ایمان لایا اور اس میں ختنہ کرانے کی طاقت نہیں تو ختنہ کی ضرورت نہیں۔

NO COMMENTS