توحید

0
484

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ

مسلمان ہونے کے ناتےہمیں سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے بارے میں ہمارا عقیدہ کیا ہونا چاہئیے ۔ مسلمان وہ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ  کو مانے اسکی عبادت کرے،  اسکے حکم کو مانے اور اسکے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالے۔ اس سوچ یا عقیدے کو توحید کہتے ہیں۔  یہ تصور ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور جب تک توحید کا عقیدہ انسان کی رگ رگ میں اچھی طرح بس نہیں جاتا  اسکا  ایمان  کامل  نہیں ہوتا۔

توحید کا مطلب ہے کہ ۔

  • اللّٰہ ایک ہے،اسکا کوئی شریک نہیں، نہ ذات میں،  نہ صفات (خوبیوں) میں،  نہ کاموں میں، نہ حکم دینے میں اور نہ اسکے ناموں میں۔
  • واجب الوجود ہے یعنی اسکا موجود ہونا ضروری ہے اور اسکا  نہ ہونا محال (Impossible) ہے۔
  • وہ قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور وہ ہی باقی ہے یعنی ہمیشہ رہنے والا ہے۔اسکے لئے فنا محال  ہے۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ  ازلی ہے اور ابدی ہے۔
  • صرف وہ  ہی اس لائق ہے کہ اسکی عبادت کی جائے ۔
  • وہ کسی کا محتاج نہیں اور تمام جہان اسکے محتاج ہیں۔
  • اسکی ذات کو عقل سے سمجھنا ناممکن ہے کیونکہ اسکی ذات کا کوئی بھی احاطہ نہیں کر سکتا یعنی اپنی سمجھ کے دائیرے میں نہیں لے سکتا۔
  • اسکی صفات اسکی ذات سے الگ نہیں ہو سکتیں ۔
  • جس طرح اسکی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے اسی طرح اسکی صفات ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہنے والی ہیں۔
  • اسکی صفات نہ تو مخلوق ہیں اور نہ ہی بدلتی ہیں۔
  • اسکی ذات اور صفات کے علاوہ سبھی چیزیں حادث ہیں یعنی پہلے نہیں تھیں بعد میں اللّٰہ تعالیٰ نے پیدا فرمائیں۔
  • جو اسکی صفات کو مخلوق مانے وہ گمراہ  و بد  دین ہے۔
  • جو عالم کی کسی بھی چیز کو یہ مانے کہ وہ ہمیشہ سے ہے  وہ  کافر ہے۔
  • وہ نہ کسی کا باپ، نہ بیٹا  اور نہ اسکی کوئی بیوی  ہے اسکے لئے باپ، بیٹا یا بیوی وغیرہ ماننے والا  کافر  ہے۔
  • وہ ہر ممکن پر قادر  ہے، جو  چیز  ناممکن ہو اللّٰہ اس سے پاک ہے جیسے دوسرا  خدا  محال (Impossible) ہے۔ ویسے ہی اسکی فنا بھی محا ل ہے۔
  • وہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ جھوٹ،  دغا،  ظلم،  بےایمانی، جہالت،  بےحیائی وغیرہ عیب ہیں اور یہ سب اسکے لئے محال ہیں۔
  • وہ زندہ  ہے اور سب کی زندگی اسکے اختیار  میں ہے۔ وہ جب چاہے، جسے چاہے جِلائے (یعنی زندگی دے) اور جب چاہے،  جسے چاہے موت دے۔
  • حیات، قدرت،  سننا، بولنا،  دیکھنا،  چاہنا  اور علم  وغیرہ  اسکی  ذاتی صفات ہیں لیکن اسکا سننا کا نو سے نہیں،  بولنا  زبان سے نہی  اور  دیکھنا  آنکھوں  سے نہیں،  یہ سب جسم ہیں اور اللّٰہ جسم سے پاک ہے۔
  • وہ ہر دھیمی سے دھیمی آواز سنتا ہے اور ہر اس چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی دیکھتا ہے جو خردبین سے بھی نظر نہ آئے۔
  • اسکی اور صفات کی طرح، اسکا  کلام بھی قدیم  یعنی ہمیشہ سے ہے حادث یا مخلوق نہیں۔
  • قرآن پاک جو کلامِ الٰہی  ہے اگر  کوئی  اسے مخلوق  مانے تو  امام  اعظم ابو حنیفہؒ  اور دوسرے اماموں  نے  اسے کافر قرار  دیا  ہے۔
  • اسکو عالم کی ہر چیز کا پورا  پورا  علم ہے یہاں تک کہ دل میں آنے والے خیالوں کا بھی
  • اسکے علم کی کوئی حد نہیں۔
  • ہر ظاہر اور چھپی ہوئی  چیز اسے معلوم ہے۔
  • ذاتی علم صرف  اللّٰہ کے لئے  ہی خاص ہے  اگر کوئی کسی اور کے علم کو  ذاتی مانے یعنی اللّٰہ کے بغیر دئیے مانے تو  وہ  کافر  ہے۔
  • ہر چیز اسی کی بنائی ہوئی ہے۔
  • وہ ہی سب کو روزی دیتا ہے۔
  • ہر برائی بھلائی اسنے اپنے علم سے مقدر کر دی یعنی جیسا ہونے والا تھا اور جیسا کوئی کرنے والا تھا اسنے اپنے علم سے لکھ دیا۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ جیسااسنے لکھا  ویسا ہمیں کرنا  پڑا۔ اسکے لکھنے نے ہمیں مجبور نہیں کیا کہ ہم ایسا کریں بلکہ جو ہم کرنے والے تھے اسنے اپنے   علم سے جانا اور وہ  ہی لکھا۔
  • اللّٰہ سمت ،مکان،  زمانے  وغیرہ  سے پاک ہے۔
  • وہ جو چاہے جیسا  چاہے کرے کسی کو  اس پر قابو نہیں اور نہ ہی اسکے مقصد سے اسے کوئی روک سکتا ہے۔
  • اسے نہ تو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگھ۔
  • وہ سارے جہانوں کا دیکھنے والا ہے۔ ہمارا کوئی بھی کام اس سے چھپا نہیں ہے۔
  • سارے جہان والوں کا وہ ہی پالنے والا ہے۔
  • ماں باپ سے زیادہ مہربان اور ٹوٹے دلوں کا سہارا ہے۔ ساری بڑائیاں اسی کے لئے ہیں۔
  • گناہوں کا معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔
  • ظالم اور گناہگاروں پر قہر اور غضب کرنے والا ہے۔
  • وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔
  • وہ جسے چاہے مردود کردے  یعنی اپنی رحمت سے نکال دے اور جسکو  چاہے اپنی رحمت  سے اپنے پاس کر لے۔
  • وہ جسے چاہے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔
  • وہ جو کرتا ہے وہ ہی عدل اور انصاف ہے اور وہ ظلم سے پاک ہے۔
  • اسکے چاہے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
  • اسکے ہر کام میں کوئی رازیا مصلحت ہے، چاہے وہ ہمیں معلوم ہو یا نہیں۔
  • اسنے دنیا کی ہر چیز کو کچھ صفت (خاصیت) دی ہے جیسے آگ جلاتی ہے، پانی  پیاس  بجھاتا  ہے،  آنکھ دیکھتی ہے،  کان سنتے ہیں وغیرہ – وغیرہ  لیکن اگر وہ نہ چاہے تو  نہ آگ جلائے، نہ پانی  پیاس بجھائے  جیسے ابراہیم ے کو  جب بھڑکتی آگ میں ڈالا گیا تو وہ  انکو  کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکی۔

NO COMMENTS