نجس چیزوں کے پاک کرنے کا طریقہ

نجس چیزوں کے پاک کرنے کا طریقہ

0
947

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ

  وہ  چیزیں جو خود نجس ہیں ۔جن کو ناپاکی اور نَجاست کہتے ہیں جیسے شراب یا غلیظ،  ایسی چیزیں جب تک اپنی اصل کو چھوڑ کر کچھ اور نہ ہوجائیں پاک نہیں ہو سکتیں، شراب جب تک شراب ہے نجس ہی رہے گی اور سرکہ ہو جائے تو اب پاک ہے اسی طرح گوبر کا اُپلا ناپاک ہے جل کر راکھ ہو گیا تو پاک ۔

وہ  چیزیں جو خود سے ٖ نجس نہیں ہیں بلکہ کسی نَجاست کے لگنے سے ناپاک ہوئیں،  ان کے پاک کرنے کے مختلف طریقے ہیں پانی اور ہر رقیق بہنے والی چیز سے (جس سے نَجاست دور ہو جائے) دھو کر نجس چیز کو پاک کر سکتے ہیں، مثلاً سرکہ اور گلاب سے  بدن یا کپڑے کو  دھو کر پاک کر سکتے ہیں  لیکن  بغیر ضرورت گلاب اور سرکہ وغیرہ سے پاک کرنا ناجائز ہے کہ فضول خرچی ہے ،  مُستَعمَل پانی اور چائے سے دھوئیں تب بھی  پاک ہو جائے گا  لیکن دودھ اور شوربا اور تیل سے دھونے سے پاک نہیں ہو گا  کیونکہ ان سے نَجاست دور نہیں ہو گی۔

  • تھوک سے اگر نَجاست دور ہو جائے پاک ہو جائے گا، جیسے بچے نے دودھ پی کر پِستان پر قے کی، پھر کئی بار دودھ پیا یہاں تک کہ اس کا اثر جاتا  رہا  پاک ہو گئی.
  • نَجاست اگر دَلدار ہو:۔ (جیسے پاخانہ، گوبر، خون وغیرہ) تو دھونے میں گنتی کی کوئی شرط نہیں بلکہ اس کو دور کرنا ضروری ہے ،اگر ایک بار دھونے سے دور ہو جائے تو ایک ہی مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا اور اگر چار پانچ مرتبہ دھونے سے دور ہو تو چار پانچ مرتبہ دھونا پڑے گا لیکن  اگر تین مرتبہ سے کم میں نَجاست دور ہو جائے تو تین بار پورا کرلینا مستحب ہے۔
  • اگر نَجاست دور ہو گئی مگر اس کا کچھ اثر رنگ یا بُو باقی ہے تو اسے بھی زائل کرنا لازم ہے،  لیکن اگر اس کا اثر مشکل سے جائے تو اثر دور کرنے کی ضرورت نہیں تین مرتبہ دھولیا پاک ہو گیا،صابون یا کھٹائی یا گرم پانی سے دھونے کی حاجت نہیں۔
  • کپڑے یا ہاتھ میں نجس رنگ لگا ،یا ناپاک مہندی لگائی تو اتنی مرتبہ دھوئیں کہ صاف پانی گرنے لگے، پاک ہو جائے گا اگرچہ کپڑے یاہاتھ پر رنگ باقی ہو۔
  • زعفران یا رنگ ،کپڑا رنگنے کے لیے گھولا تھا اس میں کسی بچے نے پیشاب کر دیا یا اَور کوئی نَجاست پڑ گئی اس سے اگر کپڑا رنگ لیا تو تین بار دھو ڈالیں پاک ہو جائے گا۔
  • کپڑے یا بدن میں ناپاک تیل لگا تھا ،تین مرتبہ دھو لینے سے پاک ہو جائے گا اگرچہ تیل کی چکنائی موجود ہو، اس تکلّف کی ضرورت نہیں کہ صابون یا گرم پانی سے دھوئے لیکن اگر مردار کی چربی لگی تھی، تو جب تک اس کی چکنائی نہ جائے پاک نہ ہوگا۔
  • اگر نَجاست رقیق یعنی پتلی ہو:۔ تو تین مرتبہ دھونے اور تینوں مرتبہ بقوّت نچوڑنے سے پاک ہوگا اور قوّت کے ساتھ نچوڑنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص اپنی طاقت بھر اس طرح نچوڑے کہ اگر پھر نچوڑے تو اس سے کوئی قطرہ نہ ٹپکے ،اگر کپڑے کا خیال کر کے اچھی طرح نہیں نچوڑا تو پاک نہ ہوگا۔
  • اگر دھونے والے نے اچھی طرح نچوڑ لیا مگر ابھی ایسا ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص جو طاقت میں اس سے زِیادہ ہے نچوڑے تو دو ایک بوند ٹپک سکتی ہے، تو اس کے حق میں پاک اور دوسرے کے حق میں ناپاک ہے۔ اس دوسرے کی طاقت کا اعتبار نہیں ،ہاں اگر یہ دھوتا اور اسی قدر نچوڑتا تو پاک نہ ہوتا۔
  • پہلی اور دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد ہاتھ پاک کر لینا بہتر ہے اور تیسری بار نچوڑنے سے کپڑا بھی پاک ہوگیا اور ہاتھ بھی اور جو کپڑے میں اتنی تری رہ گئی ہو کہ نچوڑنے سے ایک آدھ بوند ٹپکے گی تو کپڑا اور ہاتھ دونوں ناپاک ہیں۔
  • کپڑے کو تین مرتبہ دھو کر ہر مرتبہ خوب نچوڑ لیا ہے کہ اب نچوڑنے سے نہ ٹپکے گا، پھر اس کو لٹکا دیا اور اس سے پانی ٹپکا تو یہ پانی پاک ہے اور اگر خوب نہیں نچوڑا تھا تو یہ پانی ناپاک ہے۔
  • دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا ایک ہی حکم ہے کہ ان کا پیشاب کپڑے یا بدن میں لگا ہے، تو تین بار دھونا اور نچوڑنا پڑے گا۔
  • جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں ہے (جیسے چٹائی، برتن، جُوتا وغیرہ) اس کو دھو کر چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا ختم ہو جائے، اسی طرح دو مرتبہ اور دھوئیں تیسری مرتبہ جب پانی ٹپکنا بند ہو گیا وہ چیز پاک ہو گئی اسے ہر مرتبہ کے بعدسُوکھانا ضروری نہیں۔ یوہیں جو کپڑا اپنی نازکی کے سبب نچوڑنے کے قابل نہیں اسے بھی اسی طرح پاک کیا جائے۔

چینی یا مٹی  کے برتن یالوہے،  تانبے،  پیتل وغیرہ دھاتوں کی چیزوں کو پاک کرنے کا طریقہ:۔

  • اگر ایسی چیز ہو کہ اس میں نَجاست جذب نہ ہو ئی ،جیسے چینی کے برتن،یا مٹی کا پرانا استعمالی چکنا برتن یالوہے، تانبے، پیتل وغیرہ دھاتوں کی چیزیں تو اسے فقط تین بار دھو لینا کافی ہے، اس کی بھی ضرورت نہیں کہ اسے اتنی دیر تک چھوڑدیں کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے۔
  • ناپاک برتن کو مٹی سے مانجھ لینا بہتر ہے۔
  • پکایا ہوا چمڑا ناپاک ہو گیا، تو اگر اسے نچوڑ سکتے ہیں تو نچوڑ یں ورنہ تین مرتبہ دھوئیں اور ہر مرتبہ اتنی دیر تک چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے۔
  • دَری یا ٹاٹ یا کوئی ناپاک کپڑا بہتے پانی میں رات بھر پڑا رہنے دیں پاک ہو جائے گا  اور  اصل یہ ہے کہ جتنی دیر میں یہ یقین ہو جائے کہ پانی نَجاست کو بہالے گیا ہے تو یہ  پاک ہو گیا، کہ بہتے پانی سے پاک کرنے میں نچوڑنا شرط نہیں۔
  • کپڑے کا کوئی حصہ ناپاک ہو گیا  اور یہ یاد نہیں کہ وہ کون سی جگہ ہے، تو بہتر یہی ہے کہ پورا ہی دھو ڈالیں(یعنی جب بالکل نہ معلوم ہوکہ کس حصہ میں ناپاکی لگی ہے اور اگر معلوم ہے کہ مثلا آستین یا کَلی نجس ہو گئی مگر یہ نہیں معلوم کہ آستین یا کَلی کا کونسا حصہ ہےتو  آستین یا کَلی کا دھونا ہی پورے کپڑے کا دھونا ہے) اور اگر انداز سے سوچ کر اس کا کوئی حصہ دھولے جب بھی پاک ہو جائے گا اور جو بلا سوچے  ہوئے کوئی ٹکڑا  دھولیا  جب بھی پاک ہے مگر اس صورت میں اگر چند نمازیں  پڑھنے  کے بعد معلوم ہو کہ نجس حصہ نہیں دھو یا  گیا تو پھر  دھوئے  اور نمازوں کا  اعادہ کرے اور جو سوچ کر دھو لیا تھا اور بعد کو غلطی معلوم ہوئی تو اب دھولے اور نمازوں کے اعادہ کی حاجت نہیں۔
  • تین بار پاک کرنے میں یہ ضروری نہیں کہ ایک دم تینوں بار دھوئیں،  بلکہ اگر مختلف وقتوں بلکہ مختلف دنوں میں یہ تعداد پوری کی جب بھی پاک ہو جائے گا۔
  • لوہے کی چیز جیسے چُھری،  چاقو،  تلوار وغیرہ جس میں نہ زنگ ہونہ نقش و نگار نجس ہو جائے، تو اچھی طرح پونچھ ڈالنے سے پاک ہو جائے گی اور اس صورت میں نَجاست کے دَلدار یا پتلی ہونے میں کچھ فرق نہیں۔ یوہیں چاندی، سونے، پیتل، گلٹ اور ہر قسم کی دھات کی چیزیں پونچھنے سے پاک ہو جاتی ہیں بشرطیکہ نقشی نہ ہوں اور اگر نقشی ہوں یا لوہے میں زنگ ہو تو دھونا ضروری ہے پونچھنے سے پاک نہ ہوں گی۔
  • آئینہ اورشیشے کی تمام چیزیں اور چینی کے برتن یا مٹی کے روغنی برتن یا پالش کی ہوئی لکڑی غرض وہ تمام چیزیں جن میں مسام نہ ہوں کپڑے یا پَتّے سے اس قدر پونچھ لی جائیں کہ اثر بالکل جاتا رہے پاک ہو جاتی ہیں۔
  • مَنی کپڑے میں لگ کر خشک ہو گئی تو فقط مَل کر جھاڑنے اور صاف کرنے سے کپڑا پاک ہو جائے گا اگرچہ بعد مَلنے کے کچھ اس کا اثر کپڑے میں باقی رہ جائے۔ اس مسئلہ میں عورت و مرد اور انسان و حیوان و تندرست و مریضِ جریان سب کی مَنی کا ایک حکم ہے۔  بدن میں اگر مَنی لگ جائے تو بھی اسی طرح پاک ہو جائے گا۔
  • اگر منی کپڑے میں لگی ہے اور اب تک تر ہے، تو دھونے سے پاک ہو گا مل کے چھٹانا  کافی نہیں۔
  • موزے یا جوتے میں دَلدار نَجاست لگی، جیسے پاخانہ ،گوبر،مَنی تو اگرچہ وہ نَجاست ترہو کھرچنے اور رگڑنے سے پاک ہو جائیں گے۔
  • اور اگر مثل پیشاب کے کوئی پتلی نَجاست لگی ہو تو  اس پر مٹی یا راکھ یا ریتا وغیرہ ڈال کر رگڑنے سے بھی پاک ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ کیا یہاں تک کہ وہ نَجاست سُوکھ گئی تو  اب بغیر ا دھوئے پاک نہ ہوں گے۔
  • ناپاک زمین اگر خشک ہو جائے اور نَجاست کا اثر یعنی رنگ و بو جاتا رہے پاک ہو گئی، خواہ وہ ہوا سے سوکھی ہویا دھوپ یا آگ سے مگر اس سے تیمم کرنا جائز نہیں نماز اس پر پڑھ سکتے ہیں۔
  • درخت اور گھاس اور دیوار اور ایسی اینٹ جو زمین میں جڑی ہو ، یہ سب خشک ہو جانے سے پاک ہوجاتے ہیں اور اگر اینٹ جڑی ہوئی نہ ہو تو خشک ہونے سے پاک نہیں  ہو گی بلکہ دھونا ضروری ہے۔ اسی طرح  درخت یا گھاس سوکھنے سے پہلے  کاٹ لیں تو طہارت کے لیے دھونا ضروری ہے۔
  • اگر پتھر ایسا ہو جو زمین سے جدا نہ ہو سکے تو خشک ہونے سے پاک ہے ورنہ دھونے کی ضرورت ہے۔
  • کنکری جو زمین کے اوپر ہے خشک ہونے سے پاک نہ ہو گی اور جو زمین میں گڑی ہوئی ہے زمین کے حکم میں ہے۔
  • ناپاک مٹی سے برتن بنائے تو جب تک کچّے ہیں ناپاک ہیں،( آگ میں پکا کر) پختہ کرنے سے پاک ہو گئے۔
  • تنور یا تَوے پر ناپاک پانی کا چھینٹا ڈالا اور آنچ سے اس کی تری جاتی رہی اب جوروٹی لگائی گئی پاک ہے۔
  • جو چیز سوکھنے یا رگڑنے وغیرہ سے پاک ہو گئی، اس کے بعد بھیگ گئی تو ناپاک نہ ہوگی۔
  • سُور کے علاوہ  ہر جانور حلال ہو یا حرام جب کہ ذبح کے قابل ہو اور بسم اللّٰہ  کہہ کہ ذبح کیا گیا، تو اس کا گوشت اور کھال پاک ہے کہ نمازی کے پاس اگروہ گوشت ہے یا اس کی کھال پر نماز پڑھی تو نماز ہو جائے گی مگر حرام جانور ذبح سے حلال نہ ہو گا حرام ہی رہے گا۔
  • سُور کے سوا ہرمردار جانور کی کھال سکھانے سے پاک ہو جاتی ہے، خواہ اس کو کھاری نمک وغیرہ کسی دوا سے پکایا ہو یا فقط دھوپ یا  ہوا میں سکھالیا ہو اور اس کی تمام رطوبت ختم ہو کر بدبو جاتی رہی ہوکہ دونوں صورتوں میں پاک ہو جائے گی اس پر نماز درست ہے۔
  • درندے کی کھال اگرچہ پکالی گئی ہو نہ اس پر بیٹھنا چاہیے ،نہ نمازپڑھنی چاہیے کہ مزاج میں سختی اورتکبر پیدا ہوتا ہے، بکری اور مینڈھے کی کھال پر بیٹھنے اور پہننے سے مزاج میں نرمی اور انکسار پیدا ہوتا ہے، کتّے کی کھال اگرچہ پکالی گئی ہو یا وہ ذبح کر لیا گیا ہو استعمال میں نہ لانا چاہیے کہ آئمہ کے اختلاف اور عوام کی نفرت سے بچنا مناسب ہے۔
  • روئی کا اگر اتنا حصہ نجس ہے جس قدر دُھننے سے اُڑ جانے کا گمانِ صحیح ہو تو دُھننے سے پاک ہو جائے گی ورنہ بغیر دھوئے پاک نہ ہو گی، ہاں اگر معلوم نہ ہو کہ کتنی نجس ہے تو بھی دھننے سے پاک ہو جائے گی۔
  • رانگ، سیسہ پگھلانے سے پاک ہو جاتا ہے۔
  • جمے ہوئے گھی میں چوہا گِر کر مر گیا تو چوہے کے آس پاس سے نکال ڈالیں،باقی پاک ہے کھا سکتے ہیں اور اگر پتلا ہے تو سب ناپاک ہو گیا اس کا کھانا جائز نہیں، البتہ اس کام میں لا سکتے ہیں جس میں استعمالِ نَجاست ممنوع نہ ہو، تیل کا بھی یہی حکم ہے۔
  • کسی دوسرے مسلمان کے کپڑے میں نَجاست لگی دیکھی اور غالب گمان ہے کہ اس کو خبر کریگا تو پاک کر لے گا تو خبر کرنا واجب ہے۔

NO COMMENTS